Allah hates Kafirs?
Wednesday, 9 October 2013
Allah hates Kafirs? Column by ASHFAQ REHMANI
When the al Shabaab jihadi group from Somalia attacked the mall in Kenya, they gathered the crowd together and asked who were Muslims and let them go. According to the media, they then started killing the non-Muslims who were left. But non-Muslims are not the word what the terrorists would have used. No, they would have called them Kafirs (actually they would have called them the Arabic plural of kafir, kuffar.Kafirs is the Standard English plural form). According to American Thinker Writer and, Director, Center for the Study of Political Islam Mr. Bill Warner, Why did members of al Shabaab do this? Why did they ask the Muslims to leave and keep the Kafirs and start killing them? Let’s start with the word terrorists. Members of al Shabaab are not terrorists, they are jihadists or mujahedeen. That is what they call themselves.
مائے نی میں کینوں آکھاں....!!
چوتھا طبقہ....اشفاق رحمانی
لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کرنیوالے سپریم کورٹ کے سہ رکنی بینچ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ لاپتہ افراد کے ہر مقدمے میں حساس اداروں کا تعلق نکل آتا ہے۔ بازیاب ہونیوالے افراد کو اس طرح خوفزدہ کیا جاتا ہے کہ وہ کوئی بیان دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ وزارت داخلہ کے ریکارڈ کے مطا بق لا پتہ افراد کا اگر پتہ چلا یا جا ئے تو 2006 سے تا حال 1601 لا پتہ افراد کی گمشدگی کے کیس رجسٹرڈ ہو ئے جن میں سے خیبر پختو نخو اہ سے لا پتہ ہو نے والو ں کی تعداد 485 ہے ، بلو چستان سے 124 ، سندھ سے 170 اور پنجا ب سے 313 افراد لا پتہ ہو چکے ہیں تما م صوبائی حکو متو ں کے اندراج کے مطا بق اور محکمو ں واداروں کی را ئے سے کل لا پتہ افراد کی تعداد 2390 جا ری کی گئی ہے جبکہ اس عالمی شہرت یافتہ سوشل میڈیا تنظیم‘میڈیا ڈور‘ اور دیگر تحقیقا تی متعلقہ این جی او کی رپو رٹ کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی زیا دہ ہے ، بلا شبہ لا پتہ افراد کا مسئلہ موجود ہ حا لا ت کے تنا ظر میں حساس تر ین صورتحال اختیا ر کر چکا ہے ۔لاپتہ افراد کا نہ ملنا ایک المیہ ہے ،لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بنائی گئی مشترکہ ٹیموں کی کارکردگی صفر ہے جس سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ کوئی بھی لاپتہ شخص بازیاب نہیں ہو سکے گا۔ملک کے شہریوں کو کسی نہ کسی مقام سے اٹھا کر لاپتہ کرنے کا جرنیلی آمروںسے شروعہوتا ہے جب دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے مشکوک افراد کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ۔اس وقت سے اب تک لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق مختلف تنظیموںکی طرف سے احتجاجی تحرییں جاری ہیں اور سپریم کورٹ بھی لاپتہ افراد کے مقدمات کی مسلسل سماعت کررہی ہے مگر لاپتہ افراد کیلئے بازیابی کی آج تک کوئی حوصلہ افزا پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔ عدالتی حکم پر متعدد لاپتہ افراد کو بازیاب بھی کرایا گیا جن کی حالت انتہائی خراب تھی جبکہ ان مقدمات کی سماعت کے دوران ہی یہ حقائق سامنے آتے رہے کہ بیشتر لاپتہ افراد ایجنسیوں کے ہتھے چڑھ کر لاپتہ ہوئے ہیں تاہم متعلقہ اداروں کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے روبرو لاپتہ افراد کے معاملہ میں لاتعلقی کا اظہار کیا جاتا رہا۔ ایک عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی ملک کے شہریوں کو لاپتہ کرنے کے معاملات کی گتھی نہیں سلجھ رہی اس لئے عدالت عظمیٰ کو شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی بنیاد پر‘ جس کے تحت ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے‘ ازخود اس کا نوٹس لینے کی ضرورت محسوس ہوئی جبکہ اس معاملہ میں تشویشناک صورتحال یہی نظر آتی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے باربار احکام جاری کرنے کے باوجود لاپتہ افراد کی بازیابی میں کوئی حوصلہ افزاءپیش رفت ہوئی‘ نہ لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ رک سکا۔ اس سلسلہ میں بالخصوص بلوچستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں سے سب سے زیادہ افراد کو لاپتہ کیا گیا اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے بینچ نے کوئٹہ میں بیٹھ کر لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے حکومتی ایجنسیوں کی بازپرس اور ان سے رپورٹس طلب کیں مگر اس مرض کا کوئی موثر علاج آج بھی کارگر ہوتا نظر نہیں آرہا۔ اگر حکومت ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو اسکی عملداری کے مظاہر نظر بھی آنے چاہئیں۔ ملک میں قانون اور عدالتیں موجود ہیں‘ چنانچہ کسی شہری نے کسی قابل دست اندازی پولیس جرم کا ارتکاب کیا ہو تو اسے قانون کے مطابق گرفتار کرکے عدالتی عملداری کی زد میں لایا جائے۔ اس کا جرم ثابت ہو گا تو وہ اسکی سزا بھی بھگت لے گا مگر قانون نافذ کرنیوالے کسی ادارے یا اداروں کو قطعاً یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی شبہ میں یا کوئی ثبوت ملنے پر کسی شخص کو حراست میں لے کر اس کیلئے خود ہی قانون اور خود ہی عدالت بن جائے۔ لاپتہ افراد کے مقدمات میں عدالت عظمیٰ ایجنسیوں کے ایسے ہی اقدامات کا نوٹس لے رہی ہے کہ انہیں کس قانون اور کس اتھارٹی کے تحت شہریوں کو گرفتار کرنے کے بعد خود ہی سزائیں دینے کا اختیار مل گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اپنے سابقہ دور حکومت میں اسی تناظر میں پولیس مقابلوں کے ذریعے لوگوں کے ماورائے عدالت قتل کے مقدمات کی زد میں آئے تھے مگر بدقسمتی سے حکومت آج بھی ایجنسیوں کے ایسے کردار کی حمایت اور سرپرستی کرتی نظر آتی ہے جبکہ یہ صورتحال ملک میں افراتفری اور لاقانونیت پر منتج ہو سکتی ہے۔ آج کسی بھی شہری کو ان اداروں پر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے قطعاً اعتماد نہیں رہا۔ ان اداروں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملہ میں دیدہ دلیری کا اندازہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت لاپتہ افراد کے مقدمات سے ہی لگایا جا سکتا ہے جن میں بازیاب ہونیوالے لوگ بھی ایجنسیوں کے مظالم سے خوفزدہ ہو کر حقائق منظر عام پر لانے اور عدالتوں میں بیانات قلمبند کرانے سے گریز کرتے نظر آتے ہیں اس لئے ایسی صورتحال کسی مہذب معاشرے کی غمازی کرتی ہے‘ نہ آئین و قانون کی حکمرانی سے مطابقت رکھتی ہے جبکہ حکومتی ایجنسیوں کی ایسی لاقانونیت کے تناظر میں سلطانی جمہور کی گورننس پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ اگر عدالت عظمیٰ آج اس نتیجہ پر پہنچ چکی ہے کہ لاپتہ افراد کے ہر مقدمے میں حساس اداروں کا تعلق نکل آتا ہے تو یہ صورتحال موجودہ حکمرانوں کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ قانون و امن نافذ کرنیوالا کوئی ادارہ اسکے کنٹرول میں کیوںنظر نہیں آرہا۔ سابقہ ادوار میں لوگوں کو رشوت دینے اور خوفزدہ کرنے کے معاملہ میں آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ کا عمل دخل رہا ہے جس کا اصغرخان کے کیس میں عدالت عظمیٰ نے نوٹس لیا اور حکومت کو یہ یقین دلانا پڑا کہ آئی ایس آئی کا پولیٹیکل ونگ ختم کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح اب حکومت کو خود ایجنسیوں کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور لوگوں کو لاپتہ کرکے انکی زندگیاں لینے کے شواہد پر موجود معاملات کا نوٹس لے کر ان اداروں کو شٹ اپ کال دینی اور لگام ڈالنی چاہیے‘ بصورت دیگر ایجنسیوں کے ایسے ماورائے آئین و قانون اقدامات سسٹم کیلئے بھی خطرے کا باعث بنے رہیں گے۔
لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کرنیوالے سپریم کورٹ کے سہ رکنی بینچ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ لاپتہ افراد کے ہر مقدمے میں حساس اداروں کا تعلق نکل آتا ہے۔ بازیاب ہونیوالے افراد کو اس طرح خوفزدہ کیا جاتا ہے کہ وہ کوئی بیان دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ وزارت داخلہ کے ریکارڈ کے مطا بق لا پتہ افراد کا اگر پتہ چلا یا جا ئے تو 2006 سے تا حال 1601 لا پتہ افراد کی گمشدگی کے کیس رجسٹرڈ ہو ئے جن میں سے خیبر پختو نخو اہ سے لا پتہ ہو نے والو ں کی تعداد 485 ہے ، بلو چستان سے 124 ، سندھ سے 170 اور پنجا ب سے 313 افراد لا پتہ ہو چکے ہیں تما م صوبائی حکو متو ں کے اندراج کے مطا بق اور محکمو ں واداروں کی را ئے سے کل لا پتہ افراد کی تعداد 2390 جا ری کی گئی ہے جبکہ اس عالمی شہرت یافتہ سوشل میڈیا تنظیم‘میڈیا ڈور‘ اور دیگر تحقیقا تی متعلقہ این جی او کی رپو رٹ کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی زیا دہ ہے ، بلا شبہ لا پتہ افراد کا مسئلہ موجود ہ حا لا ت کے تنا ظر میں حساس تر ین صورتحال اختیا ر کر چکا ہے ۔لاپتہ افراد کا نہ ملنا ایک المیہ ہے ،لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بنائی گئی مشترکہ ٹیموں کی کارکردگی صفر ہے جس سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ کوئی بھی لاپتہ شخص بازیاب نہیں ہو سکے گا۔ملک کے شہریوں کو کسی نہ کسی مقام سے اٹھا کر لاپتہ کرنے کا جرنیلی آمروںسے شروعہوتا ہے جب دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے مشکوک افراد کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ۔اس وقت سے اب تک لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق مختلف تنظیموںکی طرف سے احتجاجی تحرییں جاری ہیں اور سپریم کورٹ بھی لاپتہ افراد کے مقدمات کی مسلسل سماعت کررہی ہے مگر لاپتہ افراد کیلئے بازیابی کی آج تک کوئی حوصلہ افزا پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔ عدالتی حکم پر متعدد لاپتہ افراد کو بازیاب بھی کرایا گیا جن کی حالت انتہائی خراب تھی جبکہ ان مقدمات کی سماعت کے دوران ہی یہ حقائق سامنے آتے رہے کہ بیشتر لاپتہ افراد ایجنسیوں کے ہتھے چڑھ کر لاپتہ ہوئے ہیں تاہم متعلقہ اداروں کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے روبرو لاپتہ افراد کے معاملہ میں لاتعلقی کا اظہار کیا جاتا رہا۔ ایک عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی ملک کے شہریوں کو لاپتہ کرنے کے معاملات کی گتھی نہیں سلجھ رہی اس لئے عدالت عظمیٰ کو شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی بنیاد پر‘ جس کے تحت ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے‘ ازخود اس کا نوٹس لینے کی ضرورت محسوس ہوئی جبکہ اس معاملہ میں تشویشناک صورتحال یہی نظر آتی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے باربار احکام جاری کرنے کے باوجود لاپتہ افراد کی بازیابی میں کوئی حوصلہ افزاءپیش رفت ہوئی‘ نہ لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ رک سکا۔ اس سلسلہ میں بالخصوص بلوچستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں سے سب سے زیادہ افراد کو لاپتہ کیا گیا اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے بینچ نے کوئٹہ میں بیٹھ کر لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے حکومتی ایجنسیوں کی بازپرس اور ان سے رپورٹس طلب کیں مگر اس مرض کا کوئی موثر علاج آج بھی کارگر ہوتا نظر نہیں آرہا۔ اگر حکومت ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو اسکی عملداری کے مظاہر نظر بھی آنے چاہئیں۔ ملک میں قانون اور عدالتیں موجود ہیں‘ چنانچہ کسی شہری نے کسی قابل دست اندازی پولیس جرم کا ارتکاب کیا ہو تو اسے قانون کے مطابق گرفتار کرکے عدالتی عملداری کی زد میں لایا جائے۔ اس کا جرم ثابت ہو گا تو وہ اسکی سزا بھی بھگت لے گا مگر قانون نافذ کرنیوالے کسی ادارے یا اداروں کو قطعاً یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی شبہ میں یا کوئی ثبوت ملنے پر کسی شخص کو حراست میں لے کر اس کیلئے خود ہی قانون اور خود ہی عدالت بن جائے۔ لاپتہ افراد کے مقدمات میں عدالت عظمیٰ ایجنسیوں کے ایسے ہی اقدامات کا نوٹس لے رہی ہے کہ انہیں کس قانون اور کس اتھارٹی کے تحت شہریوں کو گرفتار کرنے کے بعد خود ہی سزائیں دینے کا اختیار مل گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اپنے سابقہ دور حکومت میں اسی تناظر میں پولیس مقابلوں کے ذریعے لوگوں کے ماورائے عدالت قتل کے مقدمات کی زد میں آئے تھے مگر بدقسمتی سے حکومت آج بھی ایجنسیوں کے ایسے کردار کی حمایت اور سرپرستی کرتی نظر آتی ہے جبکہ یہ صورتحال ملک میں افراتفری اور لاقانونیت پر منتج ہو سکتی ہے۔ آج کسی بھی شہری کو ان اداروں پر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے قطعاً اعتماد نہیں رہا۔ ان اداروں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملہ میں دیدہ دلیری کا اندازہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت لاپتہ افراد کے مقدمات سے ہی لگایا جا سکتا ہے جن میں بازیاب ہونیوالے لوگ بھی ایجنسیوں کے مظالم سے خوفزدہ ہو کر حقائق منظر عام پر لانے اور عدالتوں میں بیانات قلمبند کرانے سے گریز کرتے نظر آتے ہیں اس لئے ایسی صورتحال کسی مہذب معاشرے کی غمازی کرتی ہے‘ نہ آئین و قانون کی حکمرانی سے مطابقت رکھتی ہے جبکہ حکومتی ایجنسیوں کی ایسی لاقانونیت کے تناظر میں سلطانی جمہور کی گورننس پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ اگر عدالت عظمیٰ آج اس نتیجہ پر پہنچ چکی ہے کہ لاپتہ افراد کے ہر مقدمے میں حساس اداروں کا تعلق نکل آتا ہے تو یہ صورتحال موجودہ حکمرانوں کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ قانون و امن نافذ کرنیوالا کوئی ادارہ اسکے کنٹرول میں کیوںنظر نہیں آرہا۔ سابقہ ادوار میں لوگوں کو رشوت دینے اور خوفزدہ کرنے کے معاملہ میں آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ کا عمل دخل رہا ہے جس کا اصغرخان کے کیس میں عدالت عظمیٰ نے نوٹس لیا اور حکومت کو یہ یقین دلانا پڑا کہ آئی ایس آئی کا پولیٹیکل ونگ ختم کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح اب حکومت کو خود ایجنسیوں کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور لوگوں کو لاپتہ کرکے انکی زندگیاں لینے کے شواہد پر موجود معاملات کا نوٹس لے کر ان اداروں کو شٹ اپ کال دینی اور لگام ڈالنی چاہیے‘ بصورت دیگر ایجنسیوں کے ایسے ماورائے آئین و قانون اقدامات سسٹم کیلئے بھی خطرے کا باعث بنے رہیں گے۔
Wednesday, 2 October 2013
150 Christian families were residing
ashfaq rehmani: In the hunt for an alleged blasphemer, hundreds of enraged Muslims charged a Christians’ locality forcing the inhabitants to flee for their lives in the Badami Bagh police area here Friday.About two to three thousand people, according to police, gathered around the Joseph Colony at Noor Road following Shafiq Ahmed who was searching for an accused Christian, Savan alias Bubby, to kill him. The mob attacked the house of Savan, burnt it partially, pelting bricks at other houses where about 150 Christian families were residing.
Friday, 30 August 2013
!کالا باغ ڈیم ،تکنیکی مسئلہ اوراتفاق رائے
چوتھا طبقہ....اشفاق رحمانی( میڈیا مین فرام پی کے)
mediamanfrompk@gmail.com
وزیراعظم میاں نواز شریف نے سکھر کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورہ کے موقع پر ایک صحافی کے کالا باغ ڈیم سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ میں آپکے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا۔ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے کوئی سوال جواب نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کافی عرصہ پہلے کالا باغ ڈیم کی حمایت کرتی تھی تاہم اب کچھ عرصے سے کالا باغ ڈیم پاکستان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی، توانائی بحران اور دیگر مسائل کے حل کیلئے وفاق اور چاروں صوبوں کو مل بیٹھ کر لائحہ عمل مرتب کرنا ہو گا۔ کالا باغ ڈیم کی افادیت اپنی جگہ موجود ہے لیکن تعمیر اتفاق رائے کے بغیر نقصان دہ ہو گی۔اس وقت ملک توانائی بحران اور بارشوں کے باعث سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے۔ ان دنوں بڑے مسائل کا حل کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں مضمر ہے۔ کالا باغ ڈیم کی افادیت پورے ملک کے سامنے ہے۔ اسکی تعمیر سے بجلی فی یونٹ ایک روپے پچاس پیسے ملے گی جبکہ سیلاب کے پانی کو بھی اسکے پونڈ میں محفوظ کرکے ایسے خشک سالی کے دوران بروئے کار لایا جا سکتا ہے اور اس سے سندھ اور بلوچستان کے خشک علاقوں کو بھی سیراب کیا جا سکتا ہے۔ 1991ءمیں مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ نے کالا باغ ڈیم بنانے پر اتفاق کیا تھا۔ اب بھی چند سیاستدانوں کے علاوہ پوری قوم اسکی تعمیر پر متفق ہے۔پنجاب جس کی بڑھتی آبادی ، صنعت و زراعت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پانی درکار ہے، کالاباغ بند کا منصوبہ بلاشبہ اس کی ان ضروریات کو نہ صرف پورا کر سکتا ہے بلکہ یہ پورے ملک کے لیے سستی بجلی کا ایک مستقل ذریعہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔پنجاب میں ایک عام رائے یہ ہے کہ بحیرہ عرب میں دریائے سندھ کا شامل ہونا دراصل پانی کے ذخیرے کا “ضائع“ ہو جانا ہے۔ یہ پانی ملک میں ان زمینوں کو سیراب کر سکتا ہے جو کہ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے بنجر ہیں۔پنجاب کے نقطہ نظر میں کالاباغ بند کے علاوہ بھی دو بڑے منصوبے بھاشا بند اور سکر دو بند بھی تعمیر کیے جانے چاہیے۔ کالاباغ بند چونکہ ان تینوں منصوبوں میں بہتر وسائل کی دستیابی کی وجہ سے قابل عمل ہے تو اسے سب سے پہلے تعمیر ہونا چاہیے۔ بہاولپور اور بہاول نگر کے علاقے کالاباغ بند کے ذخیرے سے سب سے زیادہ مستفید ہوں گے۔پنجاب میں کالاباغ بند کی تعمیر کے حق میں کئی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں، بلکہ وقتاً فوقتاً عوامی سطح پر ایسے مظاہرے نقص امن کی بھی وجہ بنے ہیں۔ 1960ءکے اوائل میں بھارت کے ساتھ پانی کی تقسیم کے معاہدوں پر پاکستان نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت ستلج اور بیاس کے حقوق بھارت کو دے دیے گئے۔ تب سے بھارت دریائے راوی، ستلج اور بیاس کو صرف سیلابی پانی کے اخراج کے لیے استعمال کرتا آیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والے معاہدے کی رو سے ان دریاو ¿ں پر بند کی تعمیر کا حق رکھتا ہے۔ پاکستان کی وفاقی حکومت ان میں سے کسی بھی منصوبے پر واضع کامیابی حاصل نہیں کر سکی جس کے نتیجے میں صوبہ پنجاب کو فراہم کیا جانے والا پانی صرف تین دریاو ¿ں تک محدود ہو گیا۔ پنجاب کے نقطہ نظر میں کالا باغ ڈیم دو دریاو ¿ں یعنی دریائے ستلج اور بیاس کی بھارت کو حوالگی کے نتیجے میں ہونے والے صوبائی نقصانات کا بہتر نعم البدل ثابت ہو سکتا ہے،یہ صوبائی نقصان بلاشبہ وفاقی سطح پر ہونے والی زیادتی ہے، جس کے ذمہ دار دوسرے صوبے بھی ہیں۔صوبہ پنجاب کی اس منصوبہ کی حمایت دراصل اس حقیقت سے بھی جڑی ہوئی ہے کہ کالا باغ بند سے تقریباً 3600 میگا واٹ بجلی حاصل ہو سکتی ہے جو پاکستان کی توانائی کے مسائل ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں ترقی کے نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہو گی کیونکہ پانی سے پیدا ہونے والی بجلی دوسرے ذریعہ سے حاصل ہونے والی توانائی کی نسبت انتہائی سستی ہے۔پنجاب نے اس منصوبہ پر اپنے موقف میں لچکداری کا مظاہرہ کیا ہے اور کالا باغ منصوبہ سے حاصل ہونے والی وفاقی سطح پر آمدنی سے حصہ وصول نہ کرنے کا اعلان کیا لیکن پھر بھی دوسرے صوبوں کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی۔ بدقسمتی سے پورے پاکستان میں ایک تکنیکی مسئلے کو سیاسی رنگ دے دیا گیا۔تجزیہ کار کالا باغ بند کی تعمیر کے حوالے سے اہمیت اس بات کو دیتے ہیں کہ یہ منصوبہ دراصل پنجاب اور باقی تین صوبوں کے درمیان عدم اعتماد کے کا سبب بنے گا۔تمام پاکستانی اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کو پانی کی کمی کا سامنا ہے اور اس بارے جلد ہی کوئی مستقل حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ اس بات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اگر کالا باغ منصوبہ پر آج سے ہی کام شروع کر بھی دیا جائے تب بھی اسے مکمل اور فعال ہونے میں کم از کم آٹھ سال کا عرصہ درکار ہے، تب تک پانی کی دستیابی بارے حالات اور بھی خراب ہو چکے ہوں گے۔ تجزیہ کار اور تکنیکی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اتنے بڑے منصوبے پر عمل درآمد کی بجائے کئی چھوٹے بند، بیراج اور نہریں تعمیر کی جانی چاہیے۔ اس سے نہ صرف دوسرے صوبوں کے تحفظات بھی دور ہوں گے بلکہ یہ آبی، ماحولیاتی اور زرعی وسائل کو محفوظ بنانے کے لیے بہترین طریقہ بھی ہے، جس کی واضع مثال پنجاب اور سندھ میں نہری نظام کی شکل میں موجود ہے۔واپڈا جو کہ پاکستان میں بجلی اور توانائی کا وفاقی ادارہ ہے کئی سالوں سے کالا باغ بند بارے شماریاتی اعداد و شمار میں تبدیلیاں کرتا آیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس ادارے کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار پر پاکستان کے کسی حصے میں کوئی بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے۔ حکومت پاکستان نے اس ضمن میں ایک تکنیکی کمیٹی اے۔ این۔ جی عباسی کی سربراہی میں تشکیل دی۔ اس کمیٹی کا مقصد کالا باغ بند کے منصوبے کے تکنیکی فوائد و نقصانات کا جائزہ لینا تھا۔ اس کمیٹی نے چار جلدوں پر مشتمل اپنی رپورٹ میں واضع طور پر رائے دی کہ بھاشا بند اور کٹزرہ بند کی تعمیر پانی کے ذخائر بارے حالات خراب ہونے سے پہلے تعمیر کیے جانے چاہیے اور کالا باغ منصوبہ ملکی مفاد میں فی الحال پس پشت ڈال دینا مفید ہو گا۔ اس رپورٹ کی روشنی میں کالا باغ بند اور بھاشا بند دراصل انتہائی موزوں منصوبہ جات ہیں اور ان کی تعمیر مکمل کی جانی چاہیے۔ رپورٹ کے اس حصے پر کئی گھمبیر عوامی و سیاسی مسائل کے کھڑے ہونے کا قوی امکان ہے۔سابق صدر پرویز مشرف نے جس انداز میں اس معاملے کو اچھالا تھا، یہ کسی بھی طور پر وفاق کے لیے مثبت نہیں ہے۔ یہ دراصل ملک کے چھوٹے صوبوں کو اشتعال دلانے کے مترادف ہے اور وفاقی راہنماو ¿ں کو اس طرح کے طرز عمل سے گریز کرنا ہو گا کیونکہ اب یہ معاملہ انتہائی نازک نہج اختیار کر چکا ہے۔ سابق صدر کے اس بیان کہ کالا باغ بند کی تعمیر ہر حال میں کی جائے گی دراصل عوامی حلقوں میں بے چینی کا سبب بنی۔ یہاں تک کہ صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع میں صدر کے بیانات اور طرز عمل کی انتہائی مخالفت کی گئی۔ یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع کالا باغ بند کے منصوبے سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والے علاقے ہیں۔
mediamanfrompk@gmail.com
وزیراعظم میاں نواز شریف نے سکھر کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورہ کے موقع پر ایک صحافی کے کالا باغ ڈیم سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ میں آپکے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا۔ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے کوئی سوال جواب نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کافی عرصہ پہلے کالا باغ ڈیم کی حمایت کرتی تھی تاہم اب کچھ عرصے سے کالا باغ ڈیم پاکستان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی، توانائی بحران اور دیگر مسائل کے حل کیلئے وفاق اور چاروں صوبوں کو مل بیٹھ کر لائحہ عمل مرتب کرنا ہو گا۔ کالا باغ ڈیم کی افادیت اپنی جگہ موجود ہے لیکن تعمیر اتفاق رائے کے بغیر نقصان دہ ہو گی۔اس وقت ملک توانائی بحران اور بارشوں کے باعث سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے۔ ان دنوں بڑے مسائل کا حل کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں مضمر ہے۔ کالا باغ ڈیم کی افادیت پورے ملک کے سامنے ہے۔ اسکی تعمیر سے بجلی فی یونٹ ایک روپے پچاس پیسے ملے گی جبکہ سیلاب کے پانی کو بھی اسکے پونڈ میں محفوظ کرکے ایسے خشک سالی کے دوران بروئے کار لایا جا سکتا ہے اور اس سے سندھ اور بلوچستان کے خشک علاقوں کو بھی سیراب کیا جا سکتا ہے۔ 1991ءمیں مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ نے کالا باغ ڈیم بنانے پر اتفاق کیا تھا۔ اب بھی چند سیاستدانوں کے علاوہ پوری قوم اسکی تعمیر پر متفق ہے۔پنجاب جس کی بڑھتی آبادی ، صنعت و زراعت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پانی درکار ہے، کالاباغ بند کا منصوبہ بلاشبہ اس کی ان ضروریات کو نہ صرف پورا کر سکتا ہے بلکہ یہ پورے ملک کے لیے سستی بجلی کا ایک مستقل ذریعہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔پنجاب میں ایک عام رائے یہ ہے کہ بحیرہ عرب میں دریائے سندھ کا شامل ہونا دراصل پانی کے ذخیرے کا “ضائع“ ہو جانا ہے۔ یہ پانی ملک میں ان زمینوں کو سیراب کر سکتا ہے جو کہ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے بنجر ہیں۔پنجاب کے نقطہ نظر میں کالاباغ بند کے علاوہ بھی دو بڑے منصوبے بھاشا بند اور سکر دو بند بھی تعمیر کیے جانے چاہیے۔ کالاباغ بند چونکہ ان تینوں منصوبوں میں بہتر وسائل کی دستیابی کی وجہ سے قابل عمل ہے تو اسے سب سے پہلے تعمیر ہونا چاہیے۔ بہاولپور اور بہاول نگر کے علاقے کالاباغ بند کے ذخیرے سے سب سے زیادہ مستفید ہوں گے۔پنجاب میں کالاباغ بند کی تعمیر کے حق میں کئی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں، بلکہ وقتاً فوقتاً عوامی سطح پر ایسے مظاہرے نقص امن کی بھی وجہ بنے ہیں۔ 1960ءکے اوائل میں بھارت کے ساتھ پانی کی تقسیم کے معاہدوں پر پاکستان نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت ستلج اور بیاس کے حقوق بھارت کو دے دیے گئے۔ تب سے بھارت دریائے راوی، ستلج اور بیاس کو صرف سیلابی پانی کے اخراج کے لیے استعمال کرتا آیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والے معاہدے کی رو سے ان دریاو ¿ں پر بند کی تعمیر کا حق رکھتا ہے۔ پاکستان کی وفاقی حکومت ان میں سے کسی بھی منصوبے پر واضع کامیابی حاصل نہیں کر سکی جس کے نتیجے میں صوبہ پنجاب کو فراہم کیا جانے والا پانی صرف تین دریاو ¿ں تک محدود ہو گیا۔ پنجاب کے نقطہ نظر میں کالا باغ ڈیم دو دریاو ¿ں یعنی دریائے ستلج اور بیاس کی بھارت کو حوالگی کے نتیجے میں ہونے والے صوبائی نقصانات کا بہتر نعم البدل ثابت ہو سکتا ہے،یہ صوبائی نقصان بلاشبہ وفاقی سطح پر ہونے والی زیادتی ہے، جس کے ذمہ دار دوسرے صوبے بھی ہیں۔صوبہ پنجاب کی اس منصوبہ کی حمایت دراصل اس حقیقت سے بھی جڑی ہوئی ہے کہ کالا باغ بند سے تقریباً 3600 میگا واٹ بجلی حاصل ہو سکتی ہے جو پاکستان کی توانائی کے مسائل ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں ترقی کے نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہو گی کیونکہ پانی سے پیدا ہونے والی بجلی دوسرے ذریعہ سے حاصل ہونے والی توانائی کی نسبت انتہائی سستی ہے۔پنجاب نے اس منصوبہ پر اپنے موقف میں لچکداری کا مظاہرہ کیا ہے اور کالا باغ منصوبہ سے حاصل ہونے والی وفاقی سطح پر آمدنی سے حصہ وصول نہ کرنے کا اعلان کیا لیکن پھر بھی دوسرے صوبوں کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی۔ بدقسمتی سے پورے پاکستان میں ایک تکنیکی مسئلے کو سیاسی رنگ دے دیا گیا۔تجزیہ کار کالا باغ بند کی تعمیر کے حوالے سے اہمیت اس بات کو دیتے ہیں کہ یہ منصوبہ دراصل پنجاب اور باقی تین صوبوں کے درمیان عدم اعتماد کے کا سبب بنے گا۔تمام پاکستانی اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کو پانی کی کمی کا سامنا ہے اور اس بارے جلد ہی کوئی مستقل حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ اس بات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اگر کالا باغ منصوبہ پر آج سے ہی کام شروع کر بھی دیا جائے تب بھی اسے مکمل اور فعال ہونے میں کم از کم آٹھ سال کا عرصہ درکار ہے، تب تک پانی کی دستیابی بارے حالات اور بھی خراب ہو چکے ہوں گے۔ تجزیہ کار اور تکنیکی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اتنے بڑے منصوبے پر عمل درآمد کی بجائے کئی چھوٹے بند، بیراج اور نہریں تعمیر کی جانی چاہیے۔ اس سے نہ صرف دوسرے صوبوں کے تحفظات بھی دور ہوں گے بلکہ یہ آبی، ماحولیاتی اور زرعی وسائل کو محفوظ بنانے کے لیے بہترین طریقہ بھی ہے، جس کی واضع مثال پنجاب اور سندھ میں نہری نظام کی شکل میں موجود ہے۔واپڈا جو کہ پاکستان میں بجلی اور توانائی کا وفاقی ادارہ ہے کئی سالوں سے کالا باغ بند بارے شماریاتی اعداد و شمار میں تبدیلیاں کرتا آیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس ادارے کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار پر پاکستان کے کسی حصے میں کوئی بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے۔ حکومت پاکستان نے اس ضمن میں ایک تکنیکی کمیٹی اے۔ این۔ جی عباسی کی سربراہی میں تشکیل دی۔ اس کمیٹی کا مقصد کالا باغ بند کے منصوبے کے تکنیکی فوائد و نقصانات کا جائزہ لینا تھا۔ اس کمیٹی نے چار جلدوں پر مشتمل اپنی رپورٹ میں واضع طور پر رائے دی کہ بھاشا بند اور کٹزرہ بند کی تعمیر پانی کے ذخائر بارے حالات خراب ہونے سے پہلے تعمیر کیے جانے چاہیے اور کالا باغ منصوبہ ملکی مفاد میں فی الحال پس پشت ڈال دینا مفید ہو گا۔ اس رپورٹ کی روشنی میں کالا باغ بند اور بھاشا بند دراصل انتہائی موزوں منصوبہ جات ہیں اور ان کی تعمیر مکمل کی جانی چاہیے۔ رپورٹ کے اس حصے پر کئی گھمبیر عوامی و سیاسی مسائل کے کھڑے ہونے کا قوی امکان ہے۔سابق صدر پرویز مشرف نے جس انداز میں اس معاملے کو اچھالا تھا، یہ کسی بھی طور پر وفاق کے لیے مثبت نہیں ہے۔ یہ دراصل ملک کے چھوٹے صوبوں کو اشتعال دلانے کے مترادف ہے اور وفاقی راہنماو ¿ں کو اس طرح کے طرز عمل سے گریز کرنا ہو گا کیونکہ اب یہ معاملہ انتہائی نازک نہج اختیار کر چکا ہے۔ سابق صدر کے اس بیان کہ کالا باغ بند کی تعمیر ہر حال میں کی جائے گی دراصل عوامی حلقوں میں بے چینی کا سبب بنی۔ یہاں تک کہ صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع میں صدر کے بیانات اور طرز عمل کی انتہائی مخالفت کی گئی۔ یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع کالا باغ بند کے منصوبے سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والے علاقے ہیں۔
Thursday, 29 August 2013
Internet effects on “Global-Cultural”
Column by REHMANI ASHFAQ
Dear
readers, The Internet is the network of computers all around the world, which
store and exchange information. Internet effect culture completely in variety
of different ways, these could divide by positive and negative effect on
culture in totally. People have different ideas as for the topic; some people
believe that the internet brought so many negatives for us. However, I will
attempt to demonstrate that the positive effect of internet on education,
economic and communication in the essay. The Internet is the answer to the
search for a global connectivity medium. Because of the Internet, the world has
shrunk, cultures have evolved, changed, and now currently we are in the midst
of a global upheaval.
Nowadays
internet have been effected many areas of our ways of life, work and the
culture very much. Primarily, I need to define the culture, culture refers to
the Culture consists of model, explicit and implicit, of and for behavior
acquired and transmitted by symbols, constituting the distinctive achievement
of human groups, including their embodiment's in artifacts. (Hofestede, 1997)
According to Brown, A (1995)and Schein, E (1994), a simple of way defining
culture is shared meaning and behavior rules, that’s basic means that the
culture need to communication or shared and behavior rules in the groups. Dear
friends, this Column will evaluate how the internet has impacted culture.
It
is clear that internet have many benefits effect on culture. Education is a
particularly way in which achievement of culture has occurred, recently, People
can learn about anything using the internet. For example there are many
organizations and companies set up the training class online, such as the
business skill, accounting, art and some else like these are slowly popular in
common, and also there are some school adopt the distance education, in result
of that students needn't to go to school. The above evidence illustrates that
the internet improving the education advancement and people can be easy get a
lots of information and also study knowledge by themselves online.
According
to Nazr Hussain a senior Editor at Weekly English News paper “Business News”
Yea, the internet has affected our culture. Now, we have become computer savvy
and are regarded as netizens. Even ten years back, we used to post letters by
air mail and wait for the answer to come. Now, by a click the email reaches the
computer of the recipient and the vice verse. We used to go to cinema hall to
enjoy a popular movie and now we enjoy our preferred movie sitting on the home
sofa. The young genre chats with their closed ones with their favorite songs
putting honey into ears. Now, we enjoy the live telecast of President's speech
or any realty show by surfing net. In this way, the whole atmosphere has
changed affecting our culture.
According
to, talented TV Artist Ali Shan The relationship between Internet and culture
is an important one. The internet is fast becoming our number 1 method of
communication. The effects of internet on culture, as a result, the
internet is the often the most common way we end up being directly exposed to
other cultures. This ‘mass’ ‘sharing of cultures' has an influence on all of
us, and is responsible for Breaking down boundaries and creating a sense of
'global culture'. On the internet, someone from a remote village in USA can
easily meet, chat, and share opinions with someone from Pakistan even Israel.
This means we are able to influence and be influenced by many different
cultures, simply by clicking on a mouse or typing on a keyboard.
Through this column I do like to share something about “Internet technology and global culture” with you.
Through this column I do like to share something about “Internet technology and global culture” with you.
I
think, This might not sound like such a big deal if you were born after 1980 -
but if you take into consideration the way the world was only a few hundred
years ago, you'll see that actually this has a pretty big impact on culture. A
few hundred years ago, people would have to sail on a boat for weeks to get to
far-off lands where they could meet and interact with other cultures.
Explorers like Christopher Columbus would come back from their journeys with amazing tales and of the way other people live, what they eat, what their houses are like, and a million other details.
Explorers like Christopher Columbus would come back from their journeys with amazing tales and of the way other people live, what they eat, what their houses are like, and a million other details.
Nowadays,
we don't need to travel on a boat for weeks on end so that we can meet people
of other cultures and share our experiences: We simply add them to our face
book, blog, linkden follow them on Twitter or chat with them over Skype.
Because it is so easy to communicate, people of different cultures have become
a lot more aware and understanding of each other - and cultures that might
previously have seemed strange and alien now seem a lot more common and
palatable. In my opinion, the internet is pushing us towards a future where the
different cultures of the world blend into one big colorful mix - where we all
have local identity, but can identify with an overall web-culture he add.
Today
in many developing countries insufficient progress in science and technology is
considered to be the chief reason for general backwardness; on the contrary,
many in the industrially advanced societies hold unfettered technological
progress as the roots of all social ills.
Is
it really possible that all social and political upheavals of the past decades
are the byproduct of thoughtless advance in technology? Does it make sense to
think of technology as an ‘inhumane force’ that has somehow managed to throw
‘human relations’ into disorder and chaos.
Are
we faced with a kind of technological determinism that places man and society
in a particular direction with no discernible horizon? Or is it after all
possible that technology is independent, neutral and free of any values, whose
benefits and faults are chiefly by the use to which it is put by man? Is it
possible for traditional societies to import technology and then try to weave
it into their own cultural fabric? Does technology cause alienation? Or is it,
as an Iranian thinker has put it, a necessary evil equally harmful in presence
as in absence?
Finally,
how are we equipped, the people of the Third World, to cope with the great
power that technology is? And of course a host of other questions that are fashioned
ever anew with respect to technology.
The
friction between technological development and the preservation of cultural
values, in particular and the influence of the former upon the course of social
and cultural changes have been a great source of controversy, the consideration
of which is obviously beyond this assignment. Our main objective here is to
discuss the cultural aspect of technology and the effect it has had on the
cultural identity of the Third World.
Today,
human life is an industrial life. In this life which is governed by technical
relations, all products are interrelated and interdependent, where the purchase
of a product commits one to the purchase of another. Technology advances
constantly and rapidly; what has been useful and favored one day runs out of
style next day.
The
Evolutionists introduced technology as the major component of culture and put
the other components at second place holding that all the components of culture
are affected by technology. In this regard Leslie White has introduced the most
important theory on technological determinism. According to him not only
technology determines the direction of cultural development, but it also
determines the need for building social foundation.1 In fact
technological determinism assumes that technological innovation is the driving
force behind social change imposing its own logic on the social actors and
their relations.
Parsons
believed that technology is a kind of capability on the part of the organization
for a more effective control and necessary change in the physical environment
in favor of human needs and demands.
I
think, Science and technology carry the genetic codes of communities where they
have been produced” Therefore technology is a product of the Western
industrialized communities which owe their present position to the attempt made
by their ancestors within certain traditional culture patterns. The industrial
communities have been organized on the basis of rational management and advancement
of science and technology. Therefore any discussion concerning development
ultimately leads to the question of science and technology and any discussion
concerning these two leads to the question of development. Unfortunately, the
sociological dimensions of development, specially the link between culture and
development and technology, and technology and culture have not been properly
considered. This negligence has led to the conclusion that development is
merely synonymous to economic change. Whereas development is in fact a
complicated and multi-dimensional process which includes social, political and
cultural spheres.
In
order to bring about deep economic and social changes and promotion of the
living standard as well as filling the gap between themselves and the developed
countries, the developing countries are in need of science and technology, and
development has become an important factor for industrial and economic
progress. But science and technology have not been created and developed in isolation
and introduction of any new technology is a cultural phenomenon, directly
affecting the cultural values and the behavior of communities.
Besides,
technology is not by itself the basis of progress and development though today
the communities which consume more and exhaust nature are considered more
advanced and more humanistic. In the public mind, too, development is a synonym
for the culture, social and economic, of the developed countries, the owners of
technology.
But
development by itself is a historical change that is, the communities move and
transit from one historical stage to another. In fact preparing the community
for development is a historical necessity, depending on time and place. The
pattern of development policy-making in each country is peculiar to that
country, but the laws of development are general and comprehensive. Therefore
the transfer of technology can be effective in the progress and development of
orient communities only when they are in harmony with the social and cultural
conditions of such communities.
So,
claiming that with mere transfer of technology the Third World will easily
develop is an optimistic idea. Since the transfer of technology is a question
of establishing a rational balance between world culture and national or
endogenous culture. Cultural development is the process of self-sufficiency
which, at a macro level, is fulfilled by the community itself and, at a micro
level, by the individuals and groups. On this same basis it is directly the
result of endogenous cultural creativity against prevalent methods of the
transfer of science and technology.
Development
is the seed which should be sown in the soil of a country, and should grow
there. It is not a sapling which may be brought from one place and transplanted
in another place. However, external communication, especially technological
devices, will have influence in the growth of this seed.
Safeguarding
the cultural authenticity and identity does not mean to go away from the
current of technology and/or return to the past and to experience what was
already experienced by others, rather it is to go away from the atmosphere of
slogans, to harmonize ourselves, and accept the realities of the present world.
Protection of cultural identity and reinforcing it are of vital importance.
Similarly, technology constitutes the reality of time. Our goal must be to
protect our cultural identity by using the gifts of technology and not
sacrifice the former for the sake of the latter or ignore the benefits of
technology.
Thursday, 15 August 2013
Challenges of minority right’s @Pak-land
REHMANI ASHFAQ
mediamanfrompk@gmail.com
The PPP government had declared August 11 as Minorities Day in 2009 through the
efforts of the then minorities minister Shahbaz Bhatti, who was assassinated in
the country’s capital in 2011. The day signifies Quaid-e-Azam’s speech to the
Constituent Assembly on August 11, 1947, in which he said: “You may belong to
any religion, caste or creed — that has nothing to do with the business of the
State.” Pakistan was established as a secular republic at the inception of its
nationhood in 1947. Since 1947, Pakistan has become more and more entrenched in
purist Islamic thought that revolves around the theo-political jurisprudence of
Sharia law. The present government (PML-N) did not seem to be in the mood to
celebrate the Minorities Day. On the other hand, the biggest Christian
country’s head, the US second time elected President Barack Obama, arranged an
iftar party in the White House this year and had proudly announced to support
Muslims all over the world. However, Information Minister Parvez Rasheed
(giving a lame excuse) said that the Day would fall during the Eid holidays.
Though Pakistan is going through a testing time but minorities are on our priority
list, he added.
In the wake of the present
critical situation, a criminal silence and nonchalant attitude of the Christian
leadership in the country are very alarming. Pakistani Christians express their
deep concern for the continuation of peace and harmony, not only in Pakistan
but also in the rest of the world. There have been many wake-up calls but the
Pakistani Christian politicians/religious leaders have gone into a long snooze.
The cases of Bishop John Joseph, Shantinagar, Gojra, Joseph Colony, Aasia Bibi
and Rimsha Masih are some examples of the Christian leaders’ callousness.
During the past week, there are
some invitations from different active Christian political/religious groups
celebrating this day. Some called it Minorities Day, others Equality Day, while
still others called it a black day. These leaders have declared the day
according to their own mindset, thinking of themselves as community leaders. On
the day, those leaders spent huge amounts of money for their vested interests.
It is pathetic that when these so-called leaders are requested to support a
needy person, they will not go for it and rather just present a list of
excuses.
The role of the clergy in the
development sector has left a question mark. Evangelical churches and bishops
are involved in land grabbing. These black sheep must be marked
Some local Christian politicians,
civil rights champions and religious leaders have been making money on the
pretext of safeguarding minority rights, but these financial resources are
being used in getting positions in other political parties and for their vested
interest rather than spending those funds for achieving Christian prosperity
and unity. Some of them, as Christian representatives, have been a part of the
Assembly that approved the blasphemy law and they kept quiet at that time. Now,
we have a few Christian political parties registered to contest general
elections but which have no contact with the Christian community at the
grassroots level. They have not shown any seriousness in guarding Christians’
rights and are rather busy in making deals with major Muslim parties.
Christians are a small minority in Pakistan but
their suffering is tremendous. I have been working actively for a democratic,
tolerant and progressive social order and for socio-economic and political
rights for religious-minorities.
Subscribe to:
Posts (Atom)













